ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / منڈگوڈ میں غریب کسان اور اس کے بیٹے پرقاتلانہ حملہ کرکے  3 لاکھ روپئے وصول کرنے پر پولس افسر کے خلاف کاروائی کا مطالبہ

منڈگوڈ میں غریب کسان اور اس کے بیٹے پرقاتلانہ حملہ کرکے  3 لاکھ روپئے وصول کرنے پر پولس افسر کے خلاف کاروائی کا مطالبہ

Sat, 14 Jan 2017 20:15:00    S.O. News Service

کاروار:14/جنوری  (ایس او نیوز) منڈگوڈ تعلقہ ساکنپال دیہات کے ایکغریب کسان نے کاروار ایڈیشنل ایس پی سے ملاقات کرکے منڈگوڈ کے ایک پولس آفسر سمیت دو لوگوں کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے جن کے تعلق سے متعلقہکسان نے الزام لگایا ہے کہ اُسے متعلقہ پولس آفسرنےبے وجہ پولس تھانہ بلایا اورتین لاکھ روپیہ وصول کیا۔

منڈگوڈ تعلقہ ساکنپال دیہات کے مکین رامنا یلپا کٹی منی اور انکا خاندان جمعہ کو کاروار کے ایس پی دفترپہنچ کر اپنی شکایت درج  کرائی ہے جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ کھ پولس نے اُسے اور اس کے بیٹے کو پولس تھانہ میں بلایا اور کہا کہ کھیت میں ملے  ہوئے سونے کو پولس تھانہ میں جمع کرائے، پھر  پولس نے اُسے اور اس کےبیٹے پر قاتلانہ حملہ کیا۔ کسان رامنا کے مطابقپولس نے  سفید کاغذپر اُس سے زبردستی دستخط بھی لئے اور کیس داخل نہ کرنے کی بات کہتے ہوئے  3لاکھ روپئے وصول کئے۔ 

کسان کے مطابق 2نومبر کی رات قریب   9بجے منڈگوڈ پولس تھانہ ایس آئی اورتھانہ انسپکٹر راتھوڈ سول ڈریس میں اس کے گھر پر پہنچ کر اس کے ساتھ  گالی گلوج کرتے ہوئے بے عزتی کرنے کے علاوہ سوال کیا کہ کھیت میں ملے سونے کو پولس تھانہ میں کیوں جمع نہیں کرایا ، سونا بیچ دیا ہے کیا، اسی بات پر انسپکٹر نے حکم دیا کہ وہ اپنے بیٹے کے ساتھ فوراً پولس تھانہ پہنچے۔ دوسرے دن ہمارے شناسا ارون گستی ، مہادیو ہنومنتپا ہریجن اور رام چندر ہنومنتپا یتنلی تینوں اس کے گھر پہنچے اورپولس تھانہ جانے کی صلاح دی اور کہا کہ وہاں پولس مارپیٹ نہیں کرے گی، ان لوگوں کے کہنے پر ہم پولس تھانہ چلے گئے ۔ مجھے اور میرے بیٹے کو پولس تھانہ اندر بھیج کر وہ لوگ واپس چلے گئے۔ پولس تھانےکے اندر 2پولس عملے نے ہمارے کپڑے نکال کر پوچھ تاچھ کرتے ہوئے پوچھا کہ سونا ملنے کی بات سچی ہے یا نہیں، جب  ہم دونوں نے کہاکہ نہیں، ہمیں کوئی سونا نہیں ملا ہے۔ تو ہمیں پیروں میں پہنے ہوئے بوٹوں سے مارنا شروع کردیا ، صبح 11بجے سے دوپہر 2بجے تک مسلسل ہم پر حملہ کیا گیا اس کے بعد کھانا دیاگیا۔پھر اس کے بعد مارنے کی دھمکی دے کر سفید کاغذ پر زبردستی دستخط لئے۔ شام 5بجے ارون گستی کو پولس تھانہ بلابھیجا اور  ہم سے 3لاکھ روپئے لینے کی بات کہتے ہوئے ہمیں گھر بھیجا گیا۔ اس کے بعد ارون گستی نے مجھ سے 80ہزاروپئے لے کرپولس افسر  راتھوڑ کو دیا۔ بقیہ رقم دودنوں میں ادا کرنےکی تاکید کی۔

میں ایک غریب مزدور ہوں، بی پی ایل کارڈ والا ہوں۔ بقیہ 2لاکھ 20ہزار رقم کے لئے میں نے اپنے رشتہ داروں سے، اپنی بیوی کے گہنے گروی رکھ کر رقم جمع کی، اور  ارون گستی کے ہاتھوں میں تھمادیا ۔ اس کے لئے سومنا مٹی منی اور رام چندر یتنلی گواہ ہیں۔ میری دی ہوئی رقم میں نےجب لوٹانےکو کہا تو ارون گستی نے صرف 25ہزاروپئے واپس دئیے ہیں، بقیہ رقم پوچھنے پر جان سے مارنے کی دھمکی دی ہے۔ ہم نےپولس کو دینے کے لئے جو رقم ارون گستی کو دی تھی وہ رقم ارون گستی نے خود اپنے پاس رکھ لیا ہے یا پولس کو دیا ہے ہم نہیں جانتے۔ مجھے اورمیرے خاندان کو ارون گستی سے جان کا خطرہ ہے، کسان نے پولس سے مطالبہ کیا ہے کہ اُس کے خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ اور جو رقم دیا ہے، اُسے واپس لوٹائیں۔کسان نے بعد میں اخبارنویسوں کو بتایا کہ اس نےاس تعلق سے حقوق انسانی کمیشن ، وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ کو بھی تمام تفصیلات بذریعہ  پوسٹ روانہ کردی ہے۔


Share: